حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ح. حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُنْزِلَتْ {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ} وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ، فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الأَسْوَدَ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ {مِنَ الْفَجْرِ} فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: یہ آیت نازل ہوئی "کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے واضح نہ ہوجائے اور(اس وقت تک) لفظ من الفجر نہیں اترا تھا، بعض لوگوں نے یہ کیا اپنے پاؤں میں سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ باندھ لیا اور اس وقت تک کھاتے رہے جب تک ان کا رنگ نہیں کھلا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ نازل کئے "من الفجر " تب لوگوں کو معلوم ہوا اس سے مراد رات اور دن ہیں۔نوٹ: ( شروع شروع میں صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بعض نے طلوع فجر کا مطلب نہیں سمجھا اس لیے وہ سفید اور سیاہ دھاگے سے فجر معلوم کرنے لگے مگر جب " من الفجر" کے لفظ نازل ہوئے تو ان کو حقیقت کا علم ہوا کہ سیاہ دھاری سے رات کی اندھیری اور سفید دھاری سے صبح کا اجالا مراد ہے۔)
بخاری شریف باب صوم حدیث نمبر 26